اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں عوامی رضا کار فورس کے ترجمان کریم النوری نے کہا ہےکہ تکریت کی مکمل آزادی کے بعد الانبار کی باری ہے-
انہوں نے کہا کہ صوبہ صلاح الدین کے نوے فیصد علاقے دہشتگردوں سے پاک کرالئے گئے ہیں-
دوسری جانب عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے صوبہ الانبارکے قبائل سے کہا ہے کہ وہ اس صوبے کو آزاد کرانے کے لئے فوج کا ساتھ دیں کیونکہ فوج کو صوبہ الانبارکے قبائل کی مدد کی ضرورت ہے -
خالد العبیدی نے صوبہ الانبارکے قبائلی عمائدین سے ملاقات میں کہا کہ صوبے کے قبائلی نوجوان تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوجائیں - انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع قبائیلوں کو ہروہ چیزجو جنگ کے لئے ضروری ہے فراہم کرنے کے لئے تیار ہے-
انہوں نے اس بات پربھی زوردیا کہ عراقی قوم کے مختلف گروہوں کو داعش کو شسکت دینے کے بعد خاص طور پرمتحد رہنا ہو گا-
قابل ذکرہے صوبہ الانبارکے قبائلی عمائدین نے بھی داعش کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کا ساتھ دینے کا اعلان کیا -
قبائلی عمائدین نےاس ملاقات میں داعش کے خلاف جنگ کے لئے قبائلی فورس کے لئے بعض ضروری فوجی سازوسامان کی فراہمی کی بھی درخواست کی جنھیں فراہم کرنے کے لئے عراقی وزیردفاع نے یقین دلایا ہے -
عراقی وزیردفاع نےصوبہ الانبار کا دورہ کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ عراقی فوجیں تین دن قبل ہی تکریت میں داخل ہوسکتی تھیں لیکن وہ عام شہریوں کو بچانے کے لئے جنھیں داعش نےانسانی ڈھال بنارکھا ہے شہر میں داخل نہیں ہوئیں-
خالد العبیدی نے کہا کہ عراقی فوج چاہتی ہے کہ دشمن کا شیرازہ بکھرجائے اور پھر کسی خونریزی کے بغیر برق رفتاری کے ساتھ شہرکےمرکزمیں داخل ہو -
موصولہ اطلاعات کے مطابق چونکہ تکریت میں عام شہریوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے اس لئےعراقی فوج نے تکریت کے اندربھرپورکارروائی کے لئے ایک مہلت مقرر کردی ہے اورجیسے وہ مہلت پوری ہوجائے گی عراقی فوج پوری طاقت کے ساتھ شہر کے اندر داخل ہوجائے گی-
اس درمیان عراق کے نائب صدر اسامہ النجیفی نے بھی کہا ہےکہ صوبہ نینوا کی آزادی کے لئے جیسے ضروری فوجی نفری اور جنگی ساز وسامان فراہم ہوئے اس صوبے کو بھی تکفیری دہشتگردوں سے آزاد کرالیا جائے گا-
عراق کے نائب صدراسامۃ النجیفی نے وزیردفاع خالد العبیدی اورصوبہ نینوا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اجلاس میں کہا کہ ضروری جنگی سازوسامان اورہتھیارفراہم ہونے کی صورت میں عراقی فوج دہشتگردوں پربھرپورحملےکرے گی-
ادھرداعش کے خلاف جاری مشترکہ فوجی کاروائیوں کے ترجمان سعد معن نے کہا ہےکہ داعش کے خلاف تمام محاذوں پر آپریشن جاری ہے - انہوں نے کہا کہ عراقی فوج نے تکریت کے مزید علاقوں کو آزاد کرالیا ہے-
ادھرعراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے بھی تکفیری اور انتہا پسندانہ نطریات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے -
سلیم الجبوری نے علما اوردانشوروں کے ایک اجلاس میں کہا کہ علمائے کرام ، دانشوروں اوربااثرشخصیتوں کو تکفیری افکار و نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کی بنیاد ہی تکفیری نظریات پراستوار ہے۔
.......
/169